skip to main | skip to sidebar

فیس بک میں نقائص ڈھونڈنے پر انعام

0 comments

فیس بک میں نقائص ڈھونڈنے پر انعام

فیس بک نے اپنی ویب سائٹ کی سکیورٹی میں نقائص تلاش کرنے والوں کو نقد انعام دینے کا پروگرام شروع کیا ہے اور ابتدائی تین ہفتوں میں اس مد میں چالیس ہزار ڈالر مختلف افراد کو دیے گئے ہیں۔
ویب سائٹ کے منتظمین کے مطابق اس ’بگ باؤنٹی پروگرام‘ کا مقصد ویب سکیورٹی پر تحقیق کرنے والے افراد کی مدد سے ویب سائٹ کو حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔
اس پروگرام میں حصہ لینے والے ایک محقق نے سماجی رابطے کی اس مقبول ترین ویب سائٹ کی سکیورٹی میں چھ نقائص کی نشاندہی کر کے سات ہزار ڈالر حاصل کیے ہیں۔
فیس بک کے چیف سکیورٹی افسر جو سلیون نے اپنے بلاگ میں اس پروگرام کی کچھ تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس پروگرام سے فیس بک کو انوکھے حملوں کا پتہ چلا ہے اور اس کی مدد سے اسے زیادہ محفوظ بنا دیا گیا ہے‘۔
ان کے مطابق کسی بھی نقص کی نشاندہی کے لیے کم سے کم ادائیگی پانچ سو ڈالر کی گئی جبکہ بڑے نقائص کی نشاندہی پر پانچ ہزار ڈالر کی زیادہ سے زیادہ رقم بھی ادا کی گئی ہے۔
سائبر مجرم اور نقب زن فیس بک کو لوگوں کی معلومات کے حصول، سپیم کے فروغ اور جعلی اشیاء کی فروخت کے لیے ہدف بناتے ہیں۔
جو سلیون کے مطاق فیس بک میں نقائص کی تلاش کا ایک اندرونی نظام بھی موجود ہے اور وہ اپنے اس کوڈ کا جائزہ لینے کے لیے بیرونی ماہرین کی مدد بھی لیتی ہے۔
فیس بک نے سنہ 2010 میں ایک نظام قائم کیا تھا جس میں ویب سائٹ میں نقائص کی نشاندہی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گوگل اور موزیلا جیسی کمپنیاں پہلے ہی اس قسم کی سکیم چلا رہی ہیں جو نقائص کی نشاندہی میں بےحد مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں فیس بک کی سکیورٹی پر تنقید ہوتی رہی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں انٹرنیٹ سکیورٹی کی کمپنی سوفوز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک اس وقت انٹرنیٹ فراڈ کرنے والوں کا سب سے بڑا نشانہ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فیس بک کسی بھی شخص کو اپلیکیشن، گیمز اور جائزے بنانے کی اجازت دے دیتا ہے۔
 View the Orignal Post



 

گوگل، موٹرولا موبیلٹی کو خریدنے کا اعلان

0 comments

گوگل، موٹرولا موبیلٹی کو خریدنے کا اعلان

 انٹرنیٹ کی ایک بڑی کمپنی گوگل نے موٹرولا موبیلٹی کو بارہ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر میں خریدنے کے ایک سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔


دونوں کمپنیوں کی جانب سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں نے متفقہ طور پر سمجھوتے کی منظوری دے دی ہے اور یہ رواں سال کے اختتام پر یا اگلے سال کے شروع میں مکمل ہو جائے گی۔


رواں سال کے آغاز پر موٹرولا کمپنی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔

موٹرولا موبیلٹی موبائل فونز کو بہتر بنانے اور ان کی تیاری پر مشتمل ہے جب کہ دوسرا حصہ موٹرولا سلوشنز میں نجی شعبے اور حکومتوں کے لیے وسیع پیمانے پر ٹیکنالوجیز کی تیاری شامل ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سمجھوتے کے تحت گوگل کے آپریٹنگ سسٹم اینروئڈ کو ’سپر چارچ‘ کرنے میں مدد ملے گی۔

’موٹرولا موبیلٹی کا اینروئڈ سے مکمل عہد ہماری دونوں کمپنیوں لیے قدرتی طور پر موزوں ہے۔‘

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ موٹرولا موبیلٹی کو علیحدہ کاروبار کے طور پر ہی چلائے گا۔

سمجھوتے کے اعلان کے بعد نیویارک کے بازارِ حصص میں موٹرولا موبیلٹی کے شیئرز میں ستاؤن فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم یہ چالیس ڈالر فی شیئر کی پیشکش سے نیچے ہی ہیں جب کہ گوگل کے شیئرز میں معمول کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس کے علاوہ ان قیاس آرائیوں کہ گوگل اور موٹرولا کے مابین ہونے والے سمجھوتے کا سب سے بڑا ہدف موبائل فون تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی نوکیا ہے کے برعکس نوکیا کے شیئرز میں دس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

واضح رہے کہ دنیا میں موٹرولا موبائل فونز تیار کرنے والی ایک کامیاب ترین کمپنی ہے لیکن حالیہ سالوں میں سیم سنگ، ایپل اور ایچ ٹی سی کے مقابلے میں پیچھے رہ گئی ہے۔

اس کے متعدد موبائل فونز میں پہلے ہی گوگل کا اینروئڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال ہو رہا ہے۔


 View the Orignal Post

مسلسل پچیس سال بغیر چھٹی کئے ہاکی کھلائی

0 comments

“مسلسل پچیس سال بغیر چھٹی کئے ہاکی کھلائی “



منصف مقابلہ نے پی ٹی وی پر خبرچلوانے کے لیئے اتحاد ہاکی کلب کو جانبداری سے ہروایامیرے بعد اتحاد کلب کہاں کھڑی ہے لوگ دیکھ سکتے ہیں
قومی ٹیم کی حالیہ کامیابی غیر متوقع ہےطارق بٹ نے کلب کے لیئے مالی وسائل پیدا کیئے
ہاکی پھر زندہ ہوسکتی ہے بشرطیکہ ایک اور شخص اپنی ساری زندگی ہاکی کے لیئے وقف کرےحسن سردار کا دور لوٹ آنا مشکل ہے
مانگا ہاکی میں گوجرہ کی طرح نام پیدا کر سکتا تھا مگر۔۔

استاد لیاقت کی کھری کھری باتیں 


پیشے کے لحاظ سے
ایک خطاط
ایک مصور
رنگوں سے کھیلنے اور رنگوں کی دنیا میں رہنے والا
لیکن ہاکی سے جنون اور محبت میں اس کی جو پہچان بنی اس پر
ناز کرنا بنتا ہے
لڑکپن عام بچوں کی طرح سکول میِں اور جوانی ہاکی کے میدان میں گزاری
سالوں سے نہیں دہائیوں سے وہی اڑھنا ,وہی بچھونا
ہاکی سوچنا، ہاکی دیکھنا، ہاکی کھیلنا، ہاکی کو گھر کی دلہن کی
 طرح دل میں بسانا
جو کمانا اس کھیل پہ لگا دینا
سپنے دیکھنا  کہ اسکے زیر تربیت بچے آگے نکلیِں گے
علاقے، ماں باپ اور ملک کا نام روشن کریں گے
استاد کے ہوتے ہوئے شاید ہی کسی کو ہاکی کے کھیل کے لوازمات نہ ہونے کی بنا پر ہاکی کو خیر آباد کہنا پڑا
جیب خالی کر دی، خطاطی مصوری کے پیسے ہاکی کے فروغ پر لٹا دیئے
ملک بھر سے کامیاب ٹیموں کو مدعو کر کے اعلی درجے کے کامیاب مقابلے منعقد کروائے
 کلب کی سطح کے کھلاڑیوں کو قومی سطح کے کھلاڑیوں کی طرح تربیت دی
انہیں ذہنی اور تکنیکی طور پر قومی کھلاڑیوں کے برابر مظبوط بنایا
اور ثبوت کے طور پر ان کھلاڑیوں نے تمام بڑے مقابلے جیت کر اپنے
 آپ کو ایک فاتح کے طور پر منوایا اور بعض نے قومی اور بین الاقوامی
 سطح پر ہاکی بھی کھیلی۔ 
وقت، پیسہ، جوانی، سب کچھ دے دیا ہاکی کو لیکن۔۔۔
 ہاکی نے اس مخلص متوسط طبقے کےبندے کو کیا دیا؟
بہت سی تلخ یادیں
لیکن وہ اس کا چرچا نہیں کرتا
اپنے زخم کسی کو نہی دکھاتا
اب بھی اسی طرح قومی کھیل کی شان بڑھانے کے لیئے پس پردہ متحرک
اپنے شاگردوں پر اتراتا نہیں مگر ان کی تحسین میں بخل سے کام نہیں لیتا
نہ کوئی لالچ
نہ ذاتی تشہر و تحسین کی پرواہ
دھیما مزاج
لیکن تھوڑا اکھڑ پن بھی
جو بہتر سمجھا وہی کیا
عزت اوروقار پر سمجھوتا کرنا تقریباً ناممکن
سادہ زندگی
بلکہ درویشانہ زندگی
جیت پاکستان کے “لکھاری خاص“کے ساتھ گفتگو میں استاد لیاقت کو کافی کریدا گیا  لیکن انہوں نے بعض تلخ حقائق پر سے پردہ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے مخالفین اور دوستوں  کا  ایماندارانہ تجزیہ کیا۔ آئیے ملتے ہیں ضلع لاہور کے اندر وجود رکھنے والے چھوٹےسے شہر مانگا منڈی کےمعروف  اتحاد ہاکی کلب کے سابق مینجرِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ و کوچ سے جنہیں زیادہ تر استاد لیاقت علی کے نام سے  جانا جاتا ہے۔

آپکا پورا نام؟         لیاقت علی نیر
تاریخ پیدائش؟         یکم جنوری ١٩٦٥  پتوکی  قصور
 مینجرالیکٹ ہوئے یا سلیکٹ؟            کسی نے الیکٹ یا سلیکٹ نہیں کیا اپنی مرضی سے کوچ اور مینجر بنا
 کب اور کیسے اس کھیل سے منسلک ہوئے؟ ٣٢ سال سے منسلک ہوں اور حسن سردار کو کھیلتے دیکھ کر ہاکی کا شوق ہوا
 اس وقت کس ادارے کی کوچنگ کر رہے ہیں؟          برین کالج
کتنا وقت دیا کوچنگ کو؟              زندگی کے ٢٥ سنہرے سال
کوچنگ کے حوالے سے بہترین یاداشت؟            اوکاڑہ میں گوجرہ کے خلاف میچ سب سے اچھی یاداشت ہے جس میں میرے کھیلاڑیوں نے اس بین الاقوامی سطح کی ٹیم گوجرہ کے خلاف پہلا ہاف میری ہدایات کے مطابق کھیلا جبکہ دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں میری ہدایات سے انحراف کرتے ہوئے دو غلطیاں کیں اور دوگول کروا لئے۔ گوجرہ نے اس ٹورنامنٹ کے ہر مقابلے میں سوائے ہمارے آٹھ سے زائد گول سکور کئے ۔  
بری یاداشت؟           کوٹ اددو میں امپائرز نے ٹورنامنٹ میں مسلسل آٹھ دن مصروف   رہنے والی ٹیم کے خلاف سیدھا سیمی فائنل کھیلنے والی پاکستان ٹیلی ویژن کی ٹیم کو صرف ٹی وی پر خبر چلوانے کی خاطر جانبدارانہفیصلے دے کر ہرا دیا جس کا بہت دکھ ہوا۔ ایک اور ٹورنامنٹ جو بہاولپور میں منعقد ہونا تھا کے نہ ہونے پر بہت دکھ ہوا جس کیلئے ہم نے ٢٥ دن تیاری اور کافی خرچہ کیا تھا۔
بیرونی دورے کیئے؟               نہیں۔ خوداری آڑے آ گئی۔
کوچ کی حیثیت سے اہم کامیابیاں ؟          کھیل کے حوالے سے کافی کامیابیاں ہیں لیکن گرائونڈ میں مسلسل ٢٥ سال بغیر کوئی چھٹی گیم کروانا اعزاز کی بات ہے۔
 آپکی شخصیت کی خوبی اور خامی ؟        ہر اچھے انسان کو خواہ وہ امیر ہو یا غریب برابر درجہ دیتا ہوں اور مزدور کا بیٹا ہوں لیکن کبھی اپنی خوداری پر سودانہیں کیا، لوگ چند ٹکوں میں اسے بیچ دیتے ہیں ۔  ہر ایک پر اندھا اعتماد میری خامی ہے۔
 کس قومی کھلاڑی کا کھیل پسند ہے ؟            ٨٢ کی ٹیم کے سبھی کھلاڑی میرے پسندیدہ ہیں ۔ نعیم اختر، خواجہ جنید ، شہباز سینئر ، ناصر علی ، اختر رسول ، قاسم ضیا اور خالد بشیر کے کھیل کو پسند کرنا ہوں شاہد اور معین پسندیدہ گول کیپر ہیں
کتنے قابل ذکر کھلاڑی پیدا  کئے مانگا نے؟            سلیم نگینہ، ندیم اسلم، جاوید بشیر، طارق ڈئیر، منشا، قدیر بشیر اور ننھا سب قومی سطح کے کھلاڑی تھے۔
سب سے اچھا کھلاڑی کون رہا ؟         منشاء اخلاق ، عادات اور کھیل کے لحاظ سے سب سے اچھا کھلاڑی تھا۔
کھلاڑیوں کی تربیت کے وقت کس بات پر زیادہ زوردیتے ہیں؟        کھیل کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔
اس کھیل میں پاکستان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟               ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور ملک میں کھیلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ عہدیدار اور سابق اولمپینز اپنی ضد چھوڑ کر قومی کھیل پر توجہ دیں۔
 دیگرمشاغل ؟       تدریس  اور خطاطی و مصوری

مانگا منڈی میں ہاکی کی بنیاد کس کھلاڑی نے رکھی اور  کس سطح کی ہاکی کھیلی گئی؟ہمارے ہاں قومی سطح کی ہاکی کھیلی گئی ۔ اگر طارق بٹ ہاکی سے وفا کرتا تو مانگا کا بھی ہاکی میں گوجرہ جیسا نام ہوتا۔ مانگا منڈی میں ہاکی کی بنیاد رکھنے والوں میں رفیق جیکی ، ملک سرور ، لالہ لیاقت ، امین بٹ ، سلیم بٹ ، مولوی ارشاد ، نواز بٹ ، عاشق پہلوان ، ماسٹر لیاقت اور فیاض گول کیپر نمایان طور پر شامل ہیں۔
اتحاد ہاکی کلب کا سب سے اچھا کپتان کسے سمجھتے ہیں اور کیوں؟شفقت شیخ اتحاد ہاکی کا سب سے اچھا کپتان تھا جس کی کپتانی کا عرصہ اگرچہ بہت محدود تھا لیکن اس میں ایک کپتان کی ساری خوبیاں موجود تھیں۔ وہ ٹیم کو کھیلانا جانتاتھا اور ہر میچ سے پہلے اور دوران میچ منصوبہ بندی کرتا تھا۔ شفقت سے پہلے مانگا منڈی میں جذباتی ہاکی کھیلی جاتی تھی لیکن اس نے ٹیم کو تکنیکی ہاکی کھلائی۔
کلب کی سب سے زیادہ مالی مدد کس نے کی؟اتحاد ہاکی کلب کو مالی طور پر سب سے زیادہ تعاون طارق بٹ نے کیا۔ تمام وسائل طارق بٹ نے ہی پیدا کئے۔
پورے ملک میں جانی جانیوالی ٹیم  ٹوٹ کیوں گئی  اور ٹوٹنے کا سبب کیا بنا؟مانگا میں چونکہ بہت اچھی ہاکی ہوئی اس لئے یہاں کھیلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور ہر کھیلاڑی کو میچ کھیلانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک کلب کا ٹوٹ جانا ویسے تو اچھی بات نہیں لیکن یہاں ایک کلب سے دو ہونے کا بڑا فائدہ ہوا گوہ یہ علیحدگی غیرارادی طور پر ہوئی لیکن اسکے مانگا کی ہاکی پر بڑے اچھے اثرات ہوئے۔ مقابلے کے ماحول نے مانگا کی ہاکی کو چار چاند لگا دئے۔ دوسری ٹیم بننے کی وجہ ٹیم پر چودھراہٹ کرنے کی خواہش تھی ۔ کسی کھلاڑی کو طارق بٹ یا انتظامیہ سے کوئی شکایت نہیں تھی اصل مسئلہ یہ تھا کہ دوسری ٹیم والے کسی کی سرپرستی میں کھیلنا نہیں چاہتے تھے ویسے بھی تجربہ کار اور پرانے کھلاڑیوں کی موجودگی میں ٹیم کی باگ ڈور نئے کھلاڑیوں کے سپرد کرنا دانشمندی نہیں تھی۔

استاد لیاقت کی متبادل پسندیدہ قومی ہاکی ٹیم
استاد لیاقت کی پسندیدہ قومی ہاکی ٹیم
استاد لیاقت کی متبادل پسندیدہ اتحاد ہاکی کلب ٹیم
استاد لیاقت کی پسندیدہ اتحاد ہاکی کلب ٹیم

١۔ شاہدعلی خان گولی 
٢۔ قاسم ضیا  رائٹ فل بیک     کپتان
٣۔ خالد بشیر  لیفٹ فل بیک
٤۔ وسیم احمد  رائٹ ہاف
٥۔ محمد ثقلین   سینٹر ہاف
٦۔ خواجہ جنید  لیفٹ ہاف
٧۔ کلیم اللہ  رائٹ آوٹ
٨۔ طاہر زمان  رائٹ ان
٩۔ مشتاق احمد  سینٹر فارورڈ
١٠۔ شکیل عباسی لیفٹ آوٹ
١١۔ حنیف خان  لیفٹ ان

١۔ معین         گولی  
٢۔ سہیل عباس  رائٹ فل بیک
٣۔ ناصر علی  لیفٹ فل بیک
٤۔ رشیدالحسن  رائٹ ہاف
٥۔ اختر رسول  سینٹر ہاف
٦۔ نعیم اختر  لیفٹ ہاف
٧۔ اصلاح الدین رائٹ آوٹ
٨۔ منظور جونئیر رائٹ ان
٩۔ حسن سردار سینٹرفارورڈ     کپتان
١٠۔ سمیع اللہ   لیفٹ آوٹ
١١۔ شہباز سئنیر لیفٹ ان

١۔ محمد تصور  گولی
٢۔ محمد بابر    رائٹ فل بیک کپتان
٣۔ ایاز محمود  لیفٹ فل بیک
٤۔ عبدالقادر بھائی رائٹ ہاف
٥۔ ندیم اسلم  سینٹر ہاف
٦۔ ماسٹر افتخار پپو لیفٹ ہاف
٧۔ طارق ڈئیر  رائٹ آوٹ
٨۔ ساجد مغل  رائٹ ان
٩۔ شبیر احمد  سینٹر فارورڈ
١٠۔ رانا تنظیم  لیفٹ آوٹ
١١۔ سلیم اسلم  لیفٹ ان

١۔ شفیق منا   گولی 
٢۔ شفقت شیخ   رائٹ بیک اور کپتان
٣۔ عامر شاہ  لیفٹ فل بیک
٤۔ محمد سرور  رائٹ ہاف
٥۔ طارق بٹ  سینٹر ہاف
٦۔ شہزاد احمد  لیفٹ ہاف
٧۔ قمر چاند  رائٹ آوٹ
٨۔ بلے شاہ  رائٹ ان
٩۔ محمد منشاء سینٹر فارورڈ
           ١٠۔ خالق منا  لیفٹ آوٹ 
١١۔ سلیم نگینہ لیفٹ ان


اپنی جوانی ہاکی پر نچھاور کرنے کے بعد جب ثمر حاصل کرنے کا وقت آیا تو ہاکی کو خیرآباد کہہ دیا اسکی وجہ کیا بنی؟
 جب مجھے احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف اپنی ذات کےلئے کھیل رہئے ہیں ہاکی کی بہتری کئ لئے نیہں تو میں نے یہ سب چھوڑ دیا میں نے اپنی جوانی اپنا نام بنانے یا سیاست چمکانے کے لئے نہیں بلکہ ہاکی کی بہتری کے لئے وقف کی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جن کے ساتھ میرے ٢٥ سال گزرے ان کے ساتھ میری تلخی ہو۔ میرے پیچھے ہٹنے کے دن سے ہی اتحاد ہاکی کلب کا زوال شروع ہو گیا یہ میں نہیں کہتا وقت نے ثابت کر دیا کہ آج اتحاد ہاکی کلب ختم ہو چکا ہے۔ میری ذات سے اختلاف کرنے والے بتائیں کہ آج اتحاد ہاکی کلب کہاں گیا؟ کیا میں نے کوئی لڑائی کی یا کسی کو کھیلنے سے منع کیا؟ پھر کیوں میرے بعد بہتر ٹیم نہ بنا سکے۔ میرے مخالفین نے مجھ سے پنگے بازی بھی کی لیکن میں نے انہیں ٹیم کھڑی کرکے دیکھائی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے بغیر ہاکی نہیں ہوگی ہاکی ضرور ہوگی لیکن اس وقت جب ایک اور شخص اپنی پوری زندگی اس کے لئے وقف کرے گا۔ ہاکی ہوگی لیکن بہت سارے پیسے اور محنت درکار ہوگی۔ ہاکی ہوگی مگر لوگوں کو اعتراضات میرے دور سے بھی زیادہ ہونگے ٹیم چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر آپ کو دوبارہ ہاکی کھلانے کا موقع ملے تو کیا میدان میں واپس آ جائیں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اب میری عمر وفا نہیں کر سکتی اور نہ ہی میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے۔ پھر بھی میری خواہش ہے کہ میں مانگا میں ہاکی کھلاؤں اور ان بنیادوں پر کھلاؤں کہ ہر بچے کے لئے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہو، سب بچے خواہ وہ غریب کی اولاد ہوں یا امیر کی برابر ہوں وہاں کسی کی چودھراہٹ نہ ہو کوئی اپنی ذات کے لئے ہاکی نہ کھیلے اور نہ ہی کوئی سیاست چمکانے کیلئے کھیلے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ہاکی کھیلا کر عبادت کی ہے لیکن بعض اوقات اچھے کام کے بھی برے نتائج نکل سکتے ہیں جیسے ضیاء دور میں لاہور سے فحاشی کے خاتمے کےلئے اقدامات کئے گئے تاکہ لاہور سے فحش  لوگوں کا خاتمہ ہو سکے لیکن یہ لوگ ایک مخصوص جگہ سے نکل کر پورے لاہور میں پھیل گئے۔ ضیاء کے اخلاص پر شک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے اقدام کو برا کہا جا سکتا ہے اسی طرح ہم نے بھی ہاکی کو اچھی نیت سے کھیلایا لیکن اچھا نہیں ہو رہا تھا کیونکہ ہم نے اپنی پوری توجہ ہاکی پر دی جبکہ ہمیں لڑکوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہئے تھی۔ تعلیم کو ہاکی پر تھوڑی برتری ہونی چاہئے کیونکہ اچھی ہاکی کھیلنے کے بعد کھیلاڑی بےکار ہو جاتا ہے لیکن اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان دوسروں کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے۔
ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی کامیابی پر کیا کہیں گے۔ کیا ہم اس جیت کو پاکستان کے عروج کی واپسی کی جانب پہلا قدم کہہ سکتے ہیں؟ 
 پاکستان کی یہ جیت ہاکی کے مستقبل کے لئے سودمند ثابت ہوگی اور پاکستان میں ہاکی کی ترقی میں نمایاں کردار اداکرے گی۔  ٹیم میں تجربہ کار کھیلاڑیوں کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے جس کی بدولت پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔ اگر سارے لڑکے اسی طرح اتفاق و اتحاد سے کھیلیں اور کھیلانے والے بھی مخلص ہوں تو کھیل میں کوئی بھی مقام پانا پاکستان کےلئے ناممکن نہیں ہے لیکن۔حسن سردار کا دور لوٹ آنا مشکل ہے۔
کیا آپ کو اس جییت کی توقع تھی؟بالکل نہیں، ایشین گیمز میں پاکستان کی جیت غیرمتوقع تھی۔
قومی کھیل ہونے کے باوجود ہاکی لوگوں کی توجہ کیوں حاصل کرنے میں ناکام ہے؟
آسٹرو ٹرف نے ہاکی میں گول کی خوبصورتی ختم کر دی ہے۔ حسن سردار اور منظور جونئیر کے گول دیکھنے کا آج بھی اپنا ہی لطف ہے۔ وہ ہاف لائن سے گیند لے کر بھاگتے تھے اور مخالف کھیلاڑیوں کو ساتھ بھگا تے ہوئے گول کر کے آتے تھے۔ آج صرف ون ٹچ ہاکی رہ گئی ہے جسکی اپنی جگہ خوبصورتی ہے لیکن پہلے والی ہاکی زیادہ خوبصورت تھی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی دلچسپی اس کھیل میں کم ہوگئی ہے۔
کیا پاکستان میں ہاکی کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہے؟قومی کھیل ہونے کے باوجود کھیلاڑیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ١٩٨٢ کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کھیلاڑیوں کو اسلام آباد میں پلاٹ دینے کا وعدہ آج تک وفا نہ ہوسکا۔ اولمپییئن بھی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کوئی انکا حال پوچھنے والا نہیں۔
سبز قمیض پہننا کسی بھی کھیلاڑی کے لئے اعزاز کی بات ہے لیکن کیا کھیلاڑی اپنی تمام عمر اس اعزاز کے سہارے گزار سکتا ہے کیا یہ اعزاز کھیلاڑی کی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے یقییناّّ نہیں کر سکتا اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے، بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے، بوڑھے ماں باپ کی دوا کیلئے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو ہاکی فیڈریشن اسے اس وقت تک دے گی جب تک وہ جوان ہے دوسرے ادارے بھی عارضی ملازمت مہیاکرکے انکی جوانی کو استعمال کرتے ہیں اوربوڑھے ہونے پر نکال دیتے ہیں تب ان کھیلاڑیوں کا کوئی مستقبل نہیں رہتا اس وقت صرف تعلیم ہی ان کے کام آسکتی ہے۔ آج میں تعلیم کو اسی لئے ہاکی پر برتری دیتا ہوں تاکہ اگر کوئی بچہ اعلی سطح کی ہاکی کھیلنے سے محروم رہے تو اسکا مستقبل تباہ نہ ہو۔ اگر وقت اور حالات نے اجازت دی تو اپنی انہی خواہشات کے مطابق ہاکی کھیلاؤں گا۔
اپنے ہاکی کے دوستوں اور انکی عادات کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟
ہاکی کے ٢٥ سالہ دور میں ہر مزاج کا دوست ملا۔ ان سب میں جیکی کا کردار سب دلچسپ تھا۔  ٹیم کھیلانے کے معاملے میں بڑے جذباتی تھے۔ ویسے بڑے جولی آدمی تھے ہر وقت خوش رہتے اور دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔ ان ہی کی طرف سے زیادہ شغل ہوا کرتے تھے۔ میچ میں دھکم پیل اور ایک دوسرے کو ہاکی مار دینا اکثر ہوتا رہتا تھا۔ جیکی کو ڈانس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ہر جگہ اور ہر کسی کے سامنے ناچ سکتا تھا ایک دفعہ وہ بابا محمد حسین کے عرس ( مانگا ) میں ناچنے والوں کے ساتھ سٹیج پر چڑھ گیا اور خوب شغل کیا۔

کوئی خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو؟          وسائل ہوتے تو اکیڈمی بنا کر بچوں کو چھٹی کلاس سے ہاکی اور تعلیم دونوں سہولتیں فراہم کرتا۔
کوئی پیغام؟                  والدین صرف کھیل پر توجہ دینےوالوں کی باتوں میں آ کراپنے بچوں کا مستقبل تباہ نہ کریں چاہے وہ انکے بچوں کو سونے کا نوالہ ہی کیوں نہ کھلائیں۔


 

 

 

’جناح اور ذوالجناح‘

0 comments
پاکستان میں سب سے زیادہ جس شخص کا ماتم کیا جاتا ہے وہ ہیں محمد علی جناح۔ کاش جناح چند روز اور زندہ رہتے۔\




کاش ہم لوگ جناح کے پیغام کی اصلی روح کو پہچانتے۔ اور ہمیشہ یہ بحث کہ کیا جناح پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا چاہتے تھے۔ یہاں سب شیروانی پہنیں گے اور اردو بولیں گے یا جناح اِسے ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے تھے جہاں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا اور تہمد، پاجامے ایک ساتھ ہنسی خوشی رہیں گے۔
اسلام کا قلعہ اور سیکولر بہشت کے چاہنے والے کِسی بات پر متفق ہوں نہ ہوں اس بات پربہرحال متفق ہیں کہ یہ وُہ پاکستان نہیں جس کا خواب جناح نے دیکھا تھا۔
کوئی اسے مودودی کا پاکستان کہتا ہے۔ کوئی جنرل ضیا کا پاکستان اور جِن کا ایمان سب سے زیادہ مضبوط ہے وہ اِسے شیطانی کارخانہ قرار دے کر اِس کے خلاف مُسلّح جدوجہد کو عین جہاد سمجھتے ہیں۔
اس خرابی کی بنیاد وہ تقریر بتائی جاتی ہے جو گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو محمد علی جناح نے قانون ساز اسمبلی میں کی تھی۔ اس تقریر کو دہرا کر لبرل حضرات جھوم جھوم جاتے ہیں اور اسلام کے قلعے کے محافظ کہتے ہیں کہ ہاں ٹھیک ہے ہم کسی کو مسجد مندر جانے سے کہاں روکتے ہیں لیکن پشاور یونیورسٹی والی وُہ تقریر بھی تو یاد رکھو جِس میں اُنہوں نے پاکستان کو اسلام کی لیبارٹری سے تشبیہ دی تھی۔

لیکن اگر آپ جناح کی گیارہ اگست والی تقریر سنیں اور اسے پالیسی بیان کے بجائے ایک پیش گوئی کے طور پر پڑھیں تو آپ کو حضرت جناح کی وجدانی طاقت پر ایمان آجائے گا اور آپ سمجھ جائیں گے کہ کچھ لوگ ان کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ کا لاحقہ لگانے پر کیوں مُصر ہیں۔
آپ نے فرمایا تھا کہ لوگوں کو پوری آزادی ہے کہ وُہ اپنی مسجدوں، مندروں اور باقی عبادت گاہوں میں جائیں۔ آپ کو اس معاملے میں مکمل آزادی ہے۔
اب اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہماری مسجدیں جتنی آباد ہیں پہلے کبھی تھیں۔ کیا اِس مملکت خداداد میں جتنی تعداد میں مسجدیں ہیں پہلے کبھی تھیں۔ قائداعظم کی گیارہ آگست والی تقریر جب جاری تھی تو لاکھوں لوگ لٹے پٹے قافلوں کی صورت میں رواں دواں تھے۔
کیا ان قافلے والوں نے کبھی یہ سوچا ہوگا کہ نمازِ جمعہ کے وقت ایسا بھی مقام آئے گا کہ نمازی پارکنگ ڈھونڈتے ڈھونڈتے نماز قضا کر بیٹھیں گے۔ اور صرف جمعۃ المبارک ہی کیا کبھی اسلامیانِ ہند نے ایسا خواب بھی دیکھا ہو گا کہ وُہ محلہ اور بستی جہاں نہ پینے کو پانی ہوگا، نہ کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا انتظام، نہ بچوں کا سکول وہاں بھی مسجد ہوگی اور اگر ہمیں اُس مسجد کے امام سے کوئی فقہی اختلاف ہوا تو ہم اُسی گلی کے دوسرے کونے پر ایک اور مسجد تعمیر کریں گے اور اللہ کے فضل سے وہ مسجد بھی آباد ہو گی۔
تو جناح صاحب کی یہ ہدایت کہ مسلمانوں کو مسجد جانے کی اجازت ہے، مسلمانوں نے دل سے مانی اور اگر ان کی یہ پیش گوئی تھی تو صحیح ثابت ہوئی۔
رہی بات مندروں، کلیساؤں اور دوسری عبادت گاہوں کی تو یقینًا کچہ زیادتی ہوئی لیکن اگر آج بھی مندر یا کلیسا میں عبادت کے دِن جائیں تو خوف کے تمام سایوں کے باوجود آپکو یہ جان کر خوشگوار حیرانگی ہوگی کہ جتنے مسیحی اور ہندو بھائی اب عبادت گاہوں میں جاتے ہیں پہلے کبھی نہ جاتے ہوں گے۔ بلکہ حال ہی میں ایک مسیحی بزرگ یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ ان کی برادری کے نوجوان دنیاوی تعلیم کو بھول کر مذہبی شعبدہ بازوں کے پیچھے جا رہے ہیں۔
آخر مسیحی ہمارے ساتھ رہتے ہیں، ہم سے کچھ تو سیکھنا ہی تھا۔ یہ بات درست ہے کہ جناح خود ایک اقلیتی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور اُنہوں نے یہ نہ سوچا ہوگا کہ اُنکے بنائے ہوئے ملک میں منتخب اسمبلیاں کُفر کے فتوے جاری کریں گی اور جناح کے دیس میں ذوالجناح کا جلوس بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ لیکن ان سب خرابیوں کے باوجود یہ بات طے ہے کہ ہم سب نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی عبادت گاہوں کی رونق خوب بڑھائی ہے۔
آگر آپ نے گیارہ اگست والی تقریر پوری پڑھی ہو تو یہ بھی جانتے ہوں گے کہ تقریر کے زیادہ تر حصے میں محمد علی جناح نے غربت، رشوت ستانی اور اقرباء پروری کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ نہ جانے وُہ باتیں ہمارے دل کو کیوں نہیں گرماتیں۔ نہ جانے ہمیں صرف عبادت گاہوں والی بات کیوں یاد رہ گئی۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ جناح صاحب یہ بھی فرما جاتے کہ اگر آپ کسی عبادت گاہ نہیں جانا چاہتے اور گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھ کر کُڑھنا چاہتے ہیں تو اُسکی بھی آزادی ہے۔




لنک ایکسچینج

0 comments
اگر آپ اس بلاگ پر ہم سے اپنا اشتہار یاں لنک ایکسچینج کرنا چاہتے ہیں تو مجھے ای-میل کریں میں آپ کا اشتہار یا لنک ہمارے بلاگ پر لگا دوں گا اس کے بدلے میں آپ کو ہمارا اشتہار یاں لنک اپنی سائیٹ یاں بلاگ پر لگانا ہو گا -

                        شکریہ۔
         ہمارا ای-میل اڈریس ہے۔
                                                        
Zeeshan_pak512@yahoo.com 

امریکا کے خزانے سے بھی زیادہ پیسے ایپل کمپنی کے پاس ہیں

0 comments

امریکا کے خزانے سے بھی زیادہ پیسے ایپل کمپنی کے پاس ہیں

سان فرانسسکو :آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ دنیا کا طاقت ور ترین ملک امریکا کے خزانے میں بھی اتنے پیسے نہیں جتنا ایپل کمپنی کے پاس ہیں رپورٹ کے مطابق امریکی ریزرو میں تہتر اعشاریہ چھیتر ارب ڈالر موجود ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سب سے آگے ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم پچھتر اعشاریہ ستاسی ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایپل کمپنی کا منافع ، آئی فون کی لانچنگ کے بعد بڑھا ہے تاہم امریکی آئل کمپنی Exxon Mobilکو کائنات کی سب سے بڑی منافع بخش کمپنی قرار دیا گیا ہے۔

Ghazals By Ghulam Ali

0 comments

Ghazals By Ghulam Ali

Ghulam Ali Ghazals
Album Name : Ghazals
Singer : Ghulam Ali
Year : xxxx
Tracks Format : mp3
Total Tracks : 39
   


Title
Size
Download
A DARD E HIJRE YAAR
2.76 MB
AAJ DIL SE DUA
2.58 MB
Aap Hain Kyoon Khafa
5.06 MB
ALLAH ALLAH LUTF
2.65 MB
AYE HUSN BEPARWAH
2.12 MB
CHAMAKTEY CHAND KO
3.42 MB
Chhup Chhup Ke Piyo
4.93 MB
CHHUP CHHUPA KE PIYO
2.10 MB
CHUPKE CHUPKE RAAT DIN
4.61 MB
DIL DADHAKNE KA SABAB
5.02 MB
DOST BAN KAR BHI
3.96 MB
EK LAMHA MAIKADE
2.25 MB
EK PAGLI MERA
2.55 MB
HEER
4.48 MB
HEER (WARIS SHAH)
4.49 MB
HUM KO KIS KAY GHAM
2.90 MB
ISHQ EK ZIKAR
3.28 MB
ISHQ WOHI GULFHAM
2.90 MB
Iskaadar Uska Aitbaar
5.52 MB
JIN KAY HONTON PAY
2.98 MB
Jiski Jhankar Mein
6.48 MB
JO PADHTE RAHE HUM
2.60 MB
KAL CHODVEEN KI RAAT
2.42 MB
KARTE HAY MOHABBAT
3.72 MB
KHALI HAI ABHI JAAM
1.97 MB
Le Chala Jaan
6.79 MB
Mere Lafzon Ke
4.89 MB
Mujhe Di Khabar
5.95 MB
NAZAR SE NAZAR
3.39 MB
Peeke Jab Hum Sharaab
5.06 MB
PHIR USSE MILE
2.23 MB
THODI SI SHARAB
3.28 MB
To Kya Yeh Tay Hai
5.70 MB
TUJHE KYA KHAABAR
2.79 MB
Tujhe Kya Khabar2
6.56 MB
Tumhare Khat Mein
6.83 MB
Woh Jo Naksh Tha
5.05 MB
WOH KAISI PAGAL LADKI THI
2.59 MB
YEH DIL YEH PAGAL
5.49 MB