عباسی
کئی سال پہلے ستر کی دہائی میں مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے بڑے اعتماد سے کہا تھا مجھے نہیں لگتا کہ کبھی بھی کسی کو اپنے گھر میں کمپیوٹر استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی زمانے میں ایک مشہور سائنسدان نے چار میزوں پر سرکٹ نما چیزوں کی تصویر ریلیز کی تھی۔ تصویر کا ٹائٹل تھا۔ ''تیس (30) سال بعد کمپیوٹر کا سائز اتنا چھوٹا ہو جائے گا''۔ کسی کو یقین نہیں آیا تھا کیونکہ اس زمانے میں چھوٹے سے چھوٹا کمپیوٹر مشکل سے دو تین کمروں میں سماتا تھا اور یہاں یہ حضرت تو چار میزوں جتنے چھوٹے کمپیوٹر کی بات کر رہے تھے۔
کسی جگہ اگر کمپیوٹر لگایا جاتا تو کئی دن تک ٹرکوں پر اس کے حصے لائے جاتے اور پھر ایک بڑے سے ایریا میں رکھ کر جوڑا جاتا اس کے بعد جب وہ کمپیوٹر جڑ جاتا تو اس کمرے میں اے سی لگایا جاتا بلکہ کئی اے سی لگائے جاتے تاکہ وہ کمپیوٹر ٹھنڈا رہے۔ وہ کمپیوٹر جس کی سپیڈ آج کل کے سائنٹیفک کیلکولیٹر سے بھی کم تھی۔
مائیکرو سافٹ کے مالک جہاں ہر چیز میں صحیح تھے وہیں ایک چیز میں غلط تھے اور وہ یہ کہ لوگوں کو گھروں میں کمپیوٹرسے کیا کام؟
بل گیٹس کی اس بات کو غلط ثابت کرتے ہوئے ''ایپل'' نامی کمپنی کے مالک اسٹیوجاب نے ایک بار کہا تھا کہ خریدار سے نہ پوچھو کہ اسے کیا چاہئے کیونکہ جب تک تم بنائو گے اسے کچھ اور چاہئے ہوگا۔ اسٹیو جاب کی کمپنی سمیت دوسری کمپنیوں نے پرسنل کمپیوٹرز (پی۔ سی) بنانا شروع کر دیئے اور 1977ء میں تقریباً اڑتالیس ہزار کمپیوٹرز لوگوں نے اپنے گھروں کے لئے خریدے۔
وقت گزرا اور 2001ء میں تقریباً ایک سو پچیس ملین کمپیوٹرز بیچے گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انٹرنیٹ سے بیشتر لوگ متعارف ہو رہے تھے۔ ستر کی دہائی کے چار میزوں والے سائنسدان کی بات غلط ثابت ہوگئی۔ کمپیوٹر کا سائز چار میزوں جتنا نہیں تھا بلکہ اس سے 80 فیصد کم تھا۔ فون کا سائز بھی چھوٹا ہوتا گیا اور اس زمانے میں ''بلیک بیری'' نام کا کمال کا فون آیا جس پر آپ اپنی ای میل اسکرین پر چیک کر سکتے تھے۔ فون مہنگا تھا اور بڑی کارپوریشن میں کام کرنے والے ہی اسے استعمال کرتے۔ زیادہ تر لوگوں کیلئے یہ فون ایسا ہی تھا جیسے 1970ء میں کمپیوٹرز یعنی کسی کسی نے اس کے بارے میں سنا تھا لیکن اس کا استعمال کارپوریٹس ہی کرتی تھیں۔ ایک عام آدمی کو ایسے فون کی کیا ضرورت؟
2007ء میں آئی فون آگیا۔ اگر آپ آئی فون سے انجان ہیں تو یہ آسان زبان میں یہ ''ایپل'' نامی کمپنی کا بنایا دنیا کا سب سے مشہور اسمارٹ فون ہے۔ اسمارٹ فون یعنی جو فون کے علاوہ ای میل' انٹرنیٹ' میوزک' ویڈیوز' کیلنڈر جیسی چیزوں کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قیمت کوئی 80 ہزار روپے لیکن ایپل نے سب کو احساس دلا دیا کہ ہر شخص کو اس کی ضرورت ہے چاہے وہ اسے افورڈ کر سکتا تھا یا نہیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب گھر میں کمپیوٹر ہونا لازمی ہو چکا تھا' لوگوں کو ای میل اور انٹرنیٹ کی اچھی طرح سمجھ تھی اور صحیح مارکیٹنگ سے ایپل نے دنیا بھر کو اس فون کیلئے بے تاب کردیا۔
فون ریلیز ہونے کی تاریخ کا جیسے ہی اعلان ہوا پورے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی۔ ریلیز سے ایک ہفتے پہلے لوگ دکانوں کے باہر لائن لگا کر فون ریلیز ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کوئی ہزار سے پندرہ سو لوگوں کی لائن لگی ہوئی اسٹورز کے باہر تاکہ لوگ جلد سے جلد وہ فون خرید سکیں اور اسی لائن کی بدولت کچھ ہی دنوں میں ایپل نے ملین سے زائد فون بیچے۔
پچھلے چار سال میں ایپل کے آئی فون کے چار ماڈلز آ چکے ہیں اور ہر بار یہی ہوتا ہے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں لائن لگاتے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اس فون کو خرید سکیں وہ آئی فون جو اب ان کی ضرورت ہے۔
پچھلے سال اپریل میں ایپل نے ایک نئی پروڈکٹ لانچ کی جس کا نام تھا ''آئی پیڈ'' یہ کمپیوٹر اور آئی فون کا ملاپ ہے یعنی آئی فون سے تقریباً پانچ گنا بڑا لیکن کمپیوٹر سے پتلا اور ہلکا جسے آپ آسانی سے کہیں بھی لے جا سکتے ہیں اور کمپیوٹر پر کئے جانے والے بیشتر کام آئی پیڈ کر سکتا ہے جیسے ای میل برائوزنگ' انٹرنیٹ اور تصویریں سیو کرنا وغیرہ وغیرہ۔
آئی پیڈ جب ریلیز ہوا تو بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی خاص کام کی چیز نہیں ہے۔ اگر میرے پاس کمپیوٹر ہے تو مجھے آئی پیڈ کی کیا ضرورت ہے؟
آئی پیڈ کو آئے نو مہینے ہوگئے ہیں پچھلے ہفتے ایپل نے ''آئی پیڈ ٹو'' ریلیز کیا جو پہلے آئی پیڈ سے تھوڑا تیز اور مزید پتلا ہے۔
آئی پیڈ جو پچھلے سال تک وجود میں ہی نہیں تھا جب آیا تھا تو بیشتر لوگ اس کا استعمال نہیں سمجھ سکے تھے۔ وہی آئی پیڈ ٹو آنے پر پورے امریکہ میں اتنی زیادہ کھلبلی مچ گئی جو آج تک کسی اور پراڈکٹ کے آنے پر نہیں دیکھی گئی۔ آئی پیڈ ٹو صرف امریکہ میں ریلیز ہوا ہے۔
ہم امریکہ کے ایک مال میں کھڑے تھے اور ہمارے سامنے ایپل کے اسٹور میں کوئی چھ سو آدمی کھڑے تھے۔
لوگ ایک ہفتے سے آئی پیڈ کے انتظار میں لائن لگائے تھے۔ نیویارک سٹی میں ایک خاتون جو تین دن سے لائن میں کھڑی تھیں انہوں نے اپنی جگہ ایک شخص کو نو سو ڈالرز میں بیچی۔ ہر شخص جو کئی دن لائن میں کھڑا ہونے کے بعد اسٹور میں جا کر آئی پیڈ ہاتھ میں لیتا تو ایسے ایکٹ کرتاجیسے اپنے اس بچے کو پہلی بار گود میں اٹھایا ہے جس کی تمنا وہ پچھلے دس سال سے کر رہا تھا۔ ایپل نے اندازہ کیا تھا کہ پہلے ہفتے میں وہ چھ لاکھ آئی پیڈز بیچ لیں گے لیکن یہ تعداد ایک ملین سے بھی اوپر چلی گئی۔ آج اگر آپ ایپل کے اسٹور پر آئی پیڈ ٹو خریدنے کیلئے آن لائن جائیں تو وہاں لکھا ہوتا ہے کہ آئی پیڈ ملنے میں چھ سے سات ہفتے لگیں گے۔ لوگ صبح پانچ بجے سے پورے امریکہ میں ایپل کی دکانوں کے باہر لائن لگا لیتے ہیں صرف اس امید میں کہ شاید آج وہاں آئی پیڈ دستیاب ہو۔
آئی پیڈ ٹو کے کئی مختلف ماڈلز ہیں اور کم سے کم قیمت پچاس ہزار روپے ہے اور یہ کمپیوٹر جتنا طاقتور بھی نہیں ہے لیکن لوگوں کو لگتا ہے کہ اتنے پیسے ایسی چیز پر خرچ کرنا بالکل صحیح ہے۔ تیس سال پہلے لگتا تھا کہ کمپیوٹر کا ہمیں کیا کام پھر وہ ہماری ضرورت بن گئے۔ پھر آئے سیل فون (موبائل) وہ ہماری ضرورت بن گئے۔ کل ہمیں آئی پیڈ کی ضرورت نہیں تھی مگر آج امریکہ اپنی نیندیں حرام کر رہا ہے اس آئی پیڈ کے لئے۔ یہ کہانی یہیں نہیں رکتی یعنی کل پھر کچھ ''ایسا یقینا'' آئے گا جس کے بغیر ہم کو اپنی زندگیاں ادھوری لگیں گی۔
کئی سال پہلے ستر کی دہائی میں مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس نے بڑے اعتماد سے کہا تھا مجھے نہیں لگتا کہ کبھی بھی کسی کو اپنے گھر میں کمپیوٹر استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ اسی زمانے میں ایک مشہور سائنسدان نے چار میزوں پر سرکٹ نما چیزوں کی تصویر ریلیز کی تھی۔ تصویر کا ٹائٹل تھا۔ ''تیس (30) سال بعد کمپیوٹر کا سائز اتنا چھوٹا ہو جائے گا''۔ کسی کو یقین نہیں آیا تھا کیونکہ اس زمانے میں چھوٹے سے چھوٹا کمپیوٹر مشکل سے دو تین کمروں میں سماتا تھا اور یہاں یہ حضرت تو چار میزوں جتنے چھوٹے کمپیوٹر کی بات کر رہے تھے۔
کسی جگہ اگر کمپیوٹر لگایا جاتا تو کئی دن تک ٹرکوں پر اس کے حصے لائے جاتے اور پھر ایک بڑے سے ایریا میں رکھ کر جوڑا جاتا اس کے بعد جب وہ کمپیوٹر جڑ جاتا تو اس کمرے میں اے سی لگایا جاتا بلکہ کئی اے سی لگائے جاتے تاکہ وہ کمپیوٹر ٹھنڈا رہے۔ وہ کمپیوٹر جس کی سپیڈ آج کل کے سائنٹیفک کیلکولیٹر سے بھی کم تھی۔
مائیکرو سافٹ کے مالک جہاں ہر چیز میں صحیح تھے وہیں ایک چیز میں غلط تھے اور وہ یہ کہ لوگوں کو گھروں میں کمپیوٹرسے کیا کام؟
بل گیٹس کی اس بات کو غلط ثابت کرتے ہوئے ''ایپل'' نامی کمپنی کے مالک اسٹیوجاب نے ایک بار کہا تھا کہ خریدار سے نہ پوچھو کہ اسے کیا چاہئے کیونکہ جب تک تم بنائو گے اسے کچھ اور چاہئے ہوگا۔ اسٹیو جاب کی کمپنی سمیت دوسری کمپنیوں نے پرسنل کمپیوٹرز (پی۔ سی) بنانا شروع کر دیئے اور 1977ء میں تقریباً اڑتالیس ہزار کمپیوٹرز لوگوں نے اپنے گھروں کے لئے خریدے۔
وقت گزرا اور 2001ء میں تقریباً ایک سو پچیس ملین کمپیوٹرز بیچے گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انٹرنیٹ سے بیشتر لوگ متعارف ہو رہے تھے۔ ستر کی دہائی کے چار میزوں والے سائنسدان کی بات غلط ثابت ہوگئی۔ کمپیوٹر کا سائز چار میزوں جتنا نہیں تھا بلکہ اس سے 80 فیصد کم تھا۔ فون کا سائز بھی چھوٹا ہوتا گیا اور اس زمانے میں ''بلیک بیری'' نام کا کمال کا فون آیا جس پر آپ اپنی ای میل اسکرین پر چیک کر سکتے تھے۔ فون مہنگا تھا اور بڑی کارپوریشن میں کام کرنے والے ہی اسے استعمال کرتے۔ زیادہ تر لوگوں کیلئے یہ فون ایسا ہی تھا جیسے 1970ء میں کمپیوٹرز یعنی کسی کسی نے اس کے بارے میں سنا تھا لیکن اس کا استعمال کارپوریٹس ہی کرتی تھیں۔ ایک عام آدمی کو ایسے فون کی کیا ضرورت؟
2007ء میں آئی فون آگیا۔ اگر آپ آئی فون سے انجان ہیں تو یہ آسان زبان میں یہ ''ایپل'' نامی کمپنی کا بنایا دنیا کا سب سے مشہور اسمارٹ فون ہے۔ اسمارٹ فون یعنی جو فون کے علاوہ ای میل' انٹرنیٹ' میوزک' ویڈیوز' کیلنڈر جیسی چیزوں کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قیمت کوئی 80 ہزار روپے لیکن ایپل نے سب کو احساس دلا دیا کہ ہر شخص کو اس کی ضرورت ہے چاہے وہ اسے افورڈ کر سکتا تھا یا نہیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب گھر میں کمپیوٹر ہونا لازمی ہو چکا تھا' لوگوں کو ای میل اور انٹرنیٹ کی اچھی طرح سمجھ تھی اور صحیح مارکیٹنگ سے ایپل نے دنیا بھر کو اس فون کیلئے بے تاب کردیا۔
فون ریلیز ہونے کی تاریخ کا جیسے ہی اعلان ہوا پورے امریکہ میں کھلبلی مچ گئی۔ ریلیز سے ایک ہفتے پہلے لوگ دکانوں کے باہر لائن لگا کر فون ریلیز ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ کوئی ہزار سے پندرہ سو لوگوں کی لائن لگی ہوئی اسٹورز کے باہر تاکہ لوگ جلد سے جلد وہ فون خرید سکیں اور اسی لائن کی بدولت کچھ ہی دنوں میں ایپل نے ملین سے زائد فون بیچے۔
پچھلے چار سال میں ایپل کے آئی فون کے چار ماڈلز آ چکے ہیں اور ہر بار یہی ہوتا ہے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں لائن لگاتے ہیں تاکہ وہ جلد از جلد اس فون کو خرید سکیں وہ آئی فون جو اب ان کی ضرورت ہے۔
پچھلے سال اپریل میں ایپل نے ایک نئی پروڈکٹ لانچ کی جس کا نام تھا ''آئی پیڈ'' یہ کمپیوٹر اور آئی فون کا ملاپ ہے یعنی آئی فون سے تقریباً پانچ گنا بڑا لیکن کمپیوٹر سے پتلا اور ہلکا جسے آپ آسانی سے کہیں بھی لے جا سکتے ہیں اور کمپیوٹر پر کئے جانے والے بیشتر کام آئی پیڈ کر سکتا ہے جیسے ای میل برائوزنگ' انٹرنیٹ اور تصویریں سیو کرنا وغیرہ وغیرہ۔
آئی پیڈ جب ریلیز ہوا تو بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کوئی خاص کام کی چیز نہیں ہے۔ اگر میرے پاس کمپیوٹر ہے تو مجھے آئی پیڈ کی کیا ضرورت ہے؟
آئی پیڈ کو آئے نو مہینے ہوگئے ہیں پچھلے ہفتے ایپل نے ''آئی پیڈ ٹو'' ریلیز کیا جو پہلے آئی پیڈ سے تھوڑا تیز اور مزید پتلا ہے۔
آئی پیڈ جو پچھلے سال تک وجود میں ہی نہیں تھا جب آیا تھا تو بیشتر لوگ اس کا استعمال نہیں سمجھ سکے تھے۔ وہی آئی پیڈ ٹو آنے پر پورے امریکہ میں اتنی زیادہ کھلبلی مچ گئی جو آج تک کسی اور پراڈکٹ کے آنے پر نہیں دیکھی گئی۔ آئی پیڈ ٹو صرف امریکہ میں ریلیز ہوا ہے۔
ہم امریکہ کے ایک مال میں کھڑے تھے اور ہمارے سامنے ایپل کے اسٹور میں کوئی چھ سو آدمی کھڑے تھے۔
لوگ ایک ہفتے سے آئی پیڈ کے انتظار میں لائن لگائے تھے۔ نیویارک سٹی میں ایک خاتون جو تین دن سے لائن میں کھڑی تھیں انہوں نے اپنی جگہ ایک شخص کو نو سو ڈالرز میں بیچی۔ ہر شخص جو کئی دن لائن میں کھڑا ہونے کے بعد اسٹور میں جا کر آئی پیڈ ہاتھ میں لیتا تو ایسے ایکٹ کرتاجیسے اپنے اس بچے کو پہلی بار گود میں اٹھایا ہے جس کی تمنا وہ پچھلے دس سال سے کر رہا تھا۔ ایپل نے اندازہ کیا تھا کہ پہلے ہفتے میں وہ چھ لاکھ آئی پیڈز بیچ لیں گے لیکن یہ تعداد ایک ملین سے بھی اوپر چلی گئی۔ آج اگر آپ ایپل کے اسٹور پر آئی پیڈ ٹو خریدنے کیلئے آن لائن جائیں تو وہاں لکھا ہوتا ہے کہ آئی پیڈ ملنے میں چھ سے سات ہفتے لگیں گے۔ لوگ صبح پانچ بجے سے پورے امریکہ میں ایپل کی دکانوں کے باہر لائن لگا لیتے ہیں صرف اس امید میں کہ شاید آج وہاں آئی پیڈ دستیاب ہو۔
آئی پیڈ ٹو کے کئی مختلف ماڈلز ہیں اور کم سے کم قیمت پچاس ہزار روپے ہے اور یہ کمپیوٹر جتنا طاقتور بھی نہیں ہے لیکن لوگوں کو لگتا ہے کہ اتنے پیسے ایسی چیز پر خرچ کرنا بالکل صحیح ہے۔ تیس سال پہلے لگتا تھا کہ کمپیوٹر کا ہمیں کیا کام پھر وہ ہماری ضرورت بن گئے۔ پھر آئے سیل فون (موبائل) وہ ہماری ضرورت بن گئے۔ کل ہمیں آئی پیڈ کی ضرورت نہیں تھی مگر آج امریکہ اپنی نیندیں حرام کر رہا ہے اس آئی پیڈ کے لئے۔ یہ کہانی یہیں نہیں رکتی یعنی کل پھر کچھ ''ایسا یقینا'' آئے گا جس کے بغیر ہم کو اپنی زندگیاں ادھوری لگیں گی۔

0 comments:
Post a Comment