فیس بک میں نقائص ڈھونڈنے پر انعام
فیس بک نے اپنی ویب سائٹ کی سکیورٹی میں نقائص تلاش کرنے والوں کو نقد
انعام دینے کا پروگرام شروع کیا ہے اور ابتدائی تین ہفتوں میں اس مد میں
چالیس ہزار ڈالر مختلف افراد کو دیے گئے ہیں۔
ویب سائٹ کے منتظمین کے مطابق اس ’بگ باؤنٹی پروگرام‘ کا مقصد ویب
سکیورٹی پر تحقیق کرنے والے افراد کی مدد سے ویب سائٹ کو حملوں سے محفوظ
بنانا ہے۔
اس پروگرام میں حصہ لینے والے ایک محقق نے سماجی
رابطے کی اس مقبول ترین ویب سائٹ کی سکیورٹی میں چھ نقائص کی نشاندہی کر کے
سات ہزار ڈالر حاصل کیے ہیں۔
فیس بک کے چیف سکیورٹی افسر جو سلیون نے اپنے بلاگ
میں اس پروگرام کی کچھ تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس پروگرام
سے فیس بک کو انوکھے حملوں کا پتہ چلا ہے اور اس کی مدد سے اسے زیادہ
محفوظ بنا دیا گیا ہے‘۔
ان کے مطابق کسی بھی نقص کی نشاندہی کے لیے کم سے
کم ادائیگی پانچ سو ڈالر کی گئی جبکہ بڑے نقائص کی نشاندہی پر پانچ ہزار
ڈالر کی زیادہ سے زیادہ رقم بھی ادا کی گئی ہے۔
سائبر مجرم اور نقب زن فیس بک کو لوگوں کی معلومات کے حصول، سپیم کے فروغ اور جعلی اشیاء کی فروخت کے لیے ہدف بناتے ہیں۔
جو سلیون کے مطاق فیس بک میں نقائص کی تلاش کا ایک
اندرونی نظام بھی موجود ہے اور وہ اپنے اس کوڈ کا جائزہ لینے کے لیے
بیرونی ماہرین کی مدد بھی لیتی ہے۔
فیس بک نے سنہ 2010 میں ایک نظام قائم کیا تھا جس میں ویب سائٹ میں
نقائص کی نشاندہی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین
دہانی بھی کروائی گئی تھی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گوگل اور موزیلا جیسی
کمپنیاں پہلے ہی اس قسم کی سکیم چلا رہی ہیں جو نقائص کی نشاندہی میں بےحد
مددگار ثابت ہوئی ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں فیس بک کی سکیورٹی پر تنقید ہوتی رہی ہے۔
رواں سال کے آغاز میں انٹرنیٹ سکیورٹی کی کمپنی
سوفوز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک اس وقت انٹرنیٹ فراڈ کرنے والوں
کا سب سے بڑا نشانہ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فیس بک کسی بھی شخص
کو اپلیکیشن، گیمز اور جائزے بنانے کی اجازت دے دیتا ہے۔
View the Orignal Post
