“مسلسل پچیس سال بغیر چھٹی کئے ہاکی کھلائی “
منصف مقابلہ نے پی ٹی وی پر خبرچلوانے کے لیئے اتحاد ہاکی کلب کو جانبداری سے ہروایامیرے بعد اتحاد کلب کہاں کھڑی ہے لوگ دیکھ سکتے ہیں
قومی ٹیم کی حالیہ کامیابی غیر متوقع ہےطارق بٹ نے کلب کے لیئے مالی وسائل پیدا کیئے
ہاکی پھر زندہ ہوسکتی ہے بشرطیکہ ایک اور شخص اپنی ساری زندگی ہاکی کے لیئے وقف کرےحسن سردار کا دور لوٹ آنا مشکل ہے
مانگا ہاکی میں گوجرہ کی طرح نام پیدا کر سکتا تھا مگر۔۔
استاد لیاقت کی کھری کھری باتیں
پیشے کے لحاظ سے
ایک خطاط
ایک مصور
رنگوں سے کھیلنے اور رنگوں کی دنیا میں رہنے والا
لیکن ہاکی سے جنون اور محبت میں اس کی جو پہچان بنی اس پر
ناز کرنا بنتا ہے
لڑکپن عام بچوں کی طرح سکول میِں اور جوانی ہاکی کے میدان میں گزاری
سالوں سے نہیں دہائیوں سے وہی اڑھنا ,وہی بچھونا
ہاکی سوچنا، ہاکی دیکھنا، ہاکی کھیلنا، ہاکی کو گھر کی دلہن کی
طرح دل میں بسانا
جو کمانا اس کھیل پہ لگا دینا
سپنے دیکھنا کہ اسکے زیر تربیت بچے آگے نکلیِں گے
علاقے، ماں باپ اور ملک کا نام روشن کریں گے
استاد کے ہوتے ہوئے شاید ہی کسی کو ہاکی کے کھیل کے لوازمات نہ ہونے کی بنا پر ہاکی کو خیر آباد کہنا پڑا
جیب خالی کر دی، خطاطی مصوری کے پیسے ہاکی کے فروغ پر لٹا دیئے
ملک بھر سے کامیاب ٹیموں کو مدعو کر کے اعلی درجے کے کامیاب مقابلے منعقد کروائے
کلب کی سطح کے کھلاڑیوں کو قومی سطح کے کھلاڑیوں کی طرح تربیت دی
انہیں ذہنی اور تکنیکی طور پر قومی کھلاڑیوں کے برابر مظبوط بنایا
اور ثبوت کے طور پر ان کھلاڑیوں نے تمام بڑے مقابلے جیت کر اپنے
آپ کو ایک فاتح کے طور پر منوایا اور بعض نے قومی اور بین الاقوامی
سطح پر ہاکی بھی کھیلی۔
وقت، پیسہ، جوانی، سب کچھ دے دیا ہاکی کو لیکن۔۔۔
ہاکی نے اس مخلص متوسط طبقے کےبندے کو کیا دیا؟
بہت سی تلخ یادیں
لیکن وہ اس کا چرچا نہیں کرتا
اپنے زخم کسی کو نہی دکھاتا
اب بھی اسی طرح قومی کھیل کی شان بڑھانے کے لیئے پس پردہ متحرک
اپنے شاگردوں پر اتراتا نہیں مگر ان کی تحسین میں بخل سے کام نہیں لیتا
نہ کوئی لالچ
نہ ذاتی تشہر و تحسین کی پرواہ
دھیما مزاج
لیکن تھوڑا اکھڑ پن بھی
جو بہتر سمجھا وہی کیا
عزت اوروقار پر سمجھوتا کرنا تقریباً ناممکن
سادہ زندگی
بلکہ درویشانہ زندگی
جیت پاکستان کے “لکھاری خاص“کے ساتھ گفتگو میں استاد لیاقت کو کافی کریدا گیا لیکن انہوں نے بعض تلخ حقائق پر سے پردہ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے مخالفین اور دوستوں کا ایماندارانہ تجزیہ کیا۔ آئیے ملتے ہیں ضلع لاہور کے اندر وجود رکھنے والے چھوٹےسے شہر مانگا منڈی کےمعروف اتحاد ہاکی کلب کے سابق مینجرِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ و کوچ سے جنہیں زیادہ تر استاد لیاقت علی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ہاکی نے اس مخلص متوسط طبقے کےبندے کو کیا دیا؟
بہت سی تلخ یادیں
لیکن وہ اس کا چرچا نہیں کرتا
اپنے زخم کسی کو نہی دکھاتا
اب بھی اسی طرح قومی کھیل کی شان بڑھانے کے لیئے پس پردہ متحرک
اپنے شاگردوں پر اتراتا نہیں مگر ان کی تحسین میں بخل سے کام نہیں لیتا
نہ کوئی لالچ
نہ ذاتی تشہر و تحسین کی پرواہ
دھیما مزاج
لیکن تھوڑا اکھڑ پن بھی
جو بہتر سمجھا وہی کیا
عزت اوروقار پر سمجھوتا کرنا تقریباً ناممکن
سادہ زندگی
بلکہ درویشانہ زندگی
جیت پاکستان کے “لکھاری خاص“کے ساتھ گفتگو میں استاد لیاقت کو کافی کریدا گیا لیکن انہوں نے بعض تلخ حقائق پر سے پردہ اٹھانا مناسب نہیں سمجھا اور اپنے مخالفین اور دوستوں کا ایماندارانہ تجزیہ کیا۔ آئیے ملتے ہیں ضلع لاہور کے اندر وجود رکھنے والے چھوٹےسے شہر مانگا منڈی کےمعروف اتحاد ہاکی کلب کے سابق مینجرِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِ و کوچ سے جنہیں زیادہ تر استاد لیاقت علی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
آپکا پورا نام؟ لیاقت علی نیر
تاریخ پیدائش؟ یکم جنوری ١٩٦٥ پتوکی قصور
مینجرالیکٹ ہوئے یا سلیکٹ؟ کسی نے الیکٹ یا سلیکٹ نہیں کیا اپنی مرضی سے کوچ اور مینجر بنا
کب اور کیسے اس کھیل سے منسلک ہوئے؟ ٣٢ سال سے منسلک ہوں اور حسن سردار کو کھیلتے دیکھ کر ہاکی کا شوق ہوا
اس وقت کس ادارے کی کوچنگ کر رہے ہیں؟ برین کالج
کتنا وقت دیا کوچنگ کو؟ زندگی کے ٢٥ سنہرے سال
کوچنگ کے حوالے سے بہترین یاداشت؟ اوکاڑہ میں گوجرہ کے خلاف میچ سب سے اچھی یاداشت ہے جس میں میرے کھیلاڑیوں نے اس بین الاقوامی سطح کی ٹیم گوجرہ کے خلاف پہلا ہاف میری ہدایات کے مطابق کھیلا جبکہ دوسرے ہاف کے آخری لمحات میں میری ہدایات سے انحراف کرتے ہوئے دو غلطیاں کیں اور دوگول کروا لئے۔ گوجرہ نے اس ٹورنامنٹ کے ہر مقابلے میں سوائے ہمارے آٹھ سے زائد گول سکور کئے ۔
بری یاداشت؟ کوٹ اددو میں امپائرز نے ٹورنامنٹ میں مسلسل آٹھ دن مصروف رہنے والی ٹیم کے خلاف سیدھا سیمی فائنل کھیلنے والی پاکستان ٹیلی ویژن کی ٹیم کو صرف ٹی وی پر خبر چلوانے کی خاطر جانبدارانہفیصلے دے کر ہرا دیا جس کا بہت دکھ ہوا۔ ایک اور ٹورنامنٹ جو بہاولپور میں منعقد ہونا تھا کے نہ ہونے پر بہت دکھ ہوا جس کیلئے ہم نے ٢٥ دن تیاری اور کافی خرچہ کیا تھا۔
بیرونی دورے کیئے؟ نہیں۔ خوداری آڑے آ گئی۔
کوچ کی حیثیت سے اہم کامیابیاں ؟ کھیل کے حوالے سے کافی کامیابیاں ہیں لیکن گرائونڈ میں مسلسل ٢٥ سال بغیر کوئی چھٹی گیم کروانا اعزاز کی بات ہے۔
آپکی شخصیت کی خوبی اور خامی ؟ ہر اچھے انسان کو خواہ وہ امیر ہو یا غریب برابر درجہ دیتا ہوں اور مزدور کا بیٹا ہوں لیکن کبھی اپنی خوداری پر سودانہیں کیا، لوگ چند ٹکوں میں اسے بیچ دیتے ہیں ۔ ہر ایک پر اندھا اعتماد میری خامی ہے۔
کس قومی کھلاڑی کا کھیل پسند ہے ؟ ٨٢ کی ٹیم کے سبھی کھلاڑی میرے پسندیدہ ہیں ۔ نعیم اختر، خواجہ جنید ، شہباز سینئر ، ناصر علی ، اختر رسول ، قاسم ضیا اور خالد بشیر کے کھیل کو پسند کرنا ہوں شاہد اور معین پسندیدہ گول کیپر ہیں
کتنے قابل ذکر کھلاڑی پیدا کئے مانگا نے؟ سلیم نگینہ، ندیم اسلم، جاوید بشیر، طارق ڈئیر، منشا، قدیر بشیر اور ننھا سب قومی سطح کے کھلاڑی تھے۔
سب سے اچھا کھلاڑی کون رہا ؟ منشاء اخلاق ، عادات اور کھیل کے لحاظ سے سب سے اچھا کھلاڑی تھا۔
کھلاڑیوں کی تربیت کے وقت کس بات پر زیادہ زوردیتے ہیں؟ کھیل کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔
اس کھیل میں پاکستان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور ملک میں کھیلاڑیوں کی کوئی کمی نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ عہدیدار اور سابق اولمپینز اپنی ضد چھوڑ کر قومی کھیل پر توجہ دیں۔
دیگرمشاغل ؟ تدریس اور خطاطی و مصوری
مانگا منڈی میں ہاکی کی بنیاد کس کھلاڑی نے رکھی اور کس سطح کی ہاکی کھیلی گئی؟ہمارے ہاں قومی سطح کی ہاکی کھیلی گئی ۔ اگر طارق بٹ ہاکی سے وفا کرتا تو مانگا کا بھی ہاکی میں گوجرہ جیسا نام ہوتا۔ مانگا منڈی میں ہاکی کی بنیاد رکھنے والوں میں رفیق جیکی ، ملک سرور ، لالہ لیاقت ، امین بٹ ، سلیم بٹ ، مولوی ارشاد ، نواز بٹ ، عاشق پہلوان ، ماسٹر لیاقت اور فیاض گول کیپر نمایان طور پر شامل ہیں۔
اتحاد ہاکی کلب کا سب سے اچھا کپتان کسے سمجھتے ہیں اور کیوں؟شفقت شیخ اتحاد ہاکی کا سب سے اچھا کپتان تھا جس کی کپتانی کا عرصہ اگرچہ بہت محدود تھا لیکن اس میں ایک کپتان کی ساری خوبیاں موجود تھیں۔ وہ ٹیم کو کھیلانا جانتاتھا اور ہر میچ سے پہلے اور دوران میچ منصوبہ بندی کرتا تھا۔ شفقت سے پہلے مانگا منڈی میں جذباتی ہاکی کھیلی جاتی تھی لیکن اس نے ٹیم کو تکنیکی ہاکی کھلائی۔
اتحاد ہاکی کلب کا سب سے اچھا کپتان کسے سمجھتے ہیں اور کیوں؟شفقت شیخ اتحاد ہاکی کا سب سے اچھا کپتان تھا جس کی کپتانی کا عرصہ اگرچہ بہت محدود تھا لیکن اس میں ایک کپتان کی ساری خوبیاں موجود تھیں۔ وہ ٹیم کو کھیلانا جانتاتھا اور ہر میچ سے پہلے اور دوران میچ منصوبہ بندی کرتا تھا۔ شفقت سے پہلے مانگا منڈی میں جذباتی ہاکی کھیلی جاتی تھی لیکن اس نے ٹیم کو تکنیکی ہاکی کھلائی۔
کلب کی سب سے زیادہ مالی مدد کس نے کی؟اتحاد ہاکی کلب کو مالی طور پر سب سے زیادہ تعاون طارق بٹ نے کیا۔ تمام وسائل طارق بٹ نے ہی پیدا کئے۔
پورے ملک میں جانی جانیوالی ٹیم ٹوٹ کیوں گئی اور ٹوٹنے کا سبب کیا بنا؟مانگا میں چونکہ بہت اچھی ہاکی ہوئی اس لئے یہاں کھیلاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور ہر کھیلاڑی کو میچ کھیلانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایک کلب کا ٹوٹ جانا ویسے تو اچھی بات نہیں لیکن یہاں ایک کلب سے دو ہونے کا بڑا فائدہ ہوا گوہ یہ علیحدگی غیرارادی طور پر ہوئی لیکن اسکے مانگا کی ہاکی پر بڑے اچھے اثرات ہوئے۔ مقابلے کے ماحول نے مانگا کی ہاکی کو چار چاند لگا دئے۔ دوسری ٹیم بننے کی وجہ ٹیم پر چودھراہٹ کرنے کی خواہش تھی ۔ کسی کھلاڑی کو طارق بٹ یا انتظامیہ سے کوئی شکایت نہیں تھی اصل مسئلہ یہ تھا کہ دوسری ٹیم والے کسی کی سرپرستی میں کھیلنا نہیں چاہتے تھے ویسے بھی تجربہ کار اور پرانے کھلاڑیوں کی موجودگی میں ٹیم کی باگ ڈور نئے کھلاڑیوں کے سپرد کرنا دانشمندی نہیں تھی۔
استاد لیاقت کی متبادل پسندیدہ قومی ہاکی ٹیم | استاد لیاقت کی پسندیدہ قومی ہاکی ٹیم | استاد لیاقت کی متبادل پسندیدہ اتحاد ہاکی کلب ٹیم | استاد لیاقت کی پسندیدہ اتحاد ہاکی کلب ٹیم |
١۔ شاہدعلی خان گولی | ١۔ معین گولی | ١۔ محمد تصور گولی | ١۔ شفیق منا گولی |
اپنی جوانی ہاکی پر نچھاور کرنے کے بعد جب ثمر حاصل کرنے کا وقت آیا تو ہاکی کو خیرآباد کہہ دیا اسکی وجہ کیا بنی؟
جب مجھے احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف اپنی ذات کےلئے کھیل رہئے ہیں ہاکی کی بہتری کئ لئے نیہں تو میں نے یہ سب چھوڑ دیا میں نے اپنی جوانی اپنا نام بنانے یا سیاست چمکانے کے لئے نہیں بلکہ ہاکی کی بہتری کے لئے وقف کی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جن کے ساتھ میرے ٢٥ سال گزرے ان کے ساتھ میری تلخی ہو۔ میرے پیچھے ہٹنے کے دن سے ہی اتحاد ہاکی کلب کا زوال شروع ہو گیا یہ میں نہیں کہتا وقت نے ثابت کر دیا کہ آج اتحاد ہاکی کلب ختم ہو چکا ہے۔ میری ذات سے اختلاف کرنے والے بتائیں کہ آج اتحاد ہاکی کلب کہاں گیا؟ کیا میں نے کوئی لڑائی کی یا کسی کو کھیلنے سے منع کیا؟ پھر کیوں میرے بعد بہتر ٹیم نہ بنا سکے۔ میرے مخالفین نے مجھ سے پنگے بازی بھی کی لیکن میں نے انہیں ٹیم کھڑی کرکے دیکھائی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے بغیر ہاکی نہیں ہوگی ہاکی ضرور ہوگی لیکن اس وقت جب ایک اور شخص اپنی پوری زندگی اس کے لئے وقف کرے گا۔ ہاکی ہوگی لیکن بہت سارے پیسے اور محنت درکار ہوگی۔ ہاکی ہوگی مگر لوگوں کو اعتراضات میرے دور سے بھی زیادہ ہونگے ٹیم چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
جب مجھے احساس ہوا کہ یہ لوگ صرف اپنی ذات کےلئے کھیل رہئے ہیں ہاکی کی بہتری کئ لئے نیہں تو میں نے یہ سب چھوڑ دیا میں نے اپنی جوانی اپنا نام بنانے یا سیاست چمکانے کے لئے نہیں بلکہ ہاکی کی بہتری کے لئے وقف کی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جن کے ساتھ میرے ٢٥ سال گزرے ان کے ساتھ میری تلخی ہو۔ میرے پیچھے ہٹنے کے دن سے ہی اتحاد ہاکی کلب کا زوال شروع ہو گیا یہ میں نہیں کہتا وقت نے ثابت کر دیا کہ آج اتحاد ہاکی کلب ختم ہو چکا ہے۔ میری ذات سے اختلاف کرنے والے بتائیں کہ آج اتحاد ہاکی کلب کہاں گیا؟ کیا میں نے کوئی لڑائی کی یا کسی کو کھیلنے سے منع کیا؟ پھر کیوں میرے بعد بہتر ٹیم نہ بنا سکے۔ میرے مخالفین نے مجھ سے پنگے بازی بھی کی لیکن میں نے انہیں ٹیم کھڑی کرکے دیکھائی۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے بغیر ہاکی نہیں ہوگی ہاکی ضرور ہوگی لیکن اس وقت جب ایک اور شخص اپنی پوری زندگی اس کے لئے وقف کرے گا۔ ہاکی ہوگی لیکن بہت سارے پیسے اور محنت درکار ہوگی۔ ہاکی ہوگی مگر لوگوں کو اعتراضات میرے دور سے بھی زیادہ ہونگے ٹیم چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر آپ کو دوبارہ ہاکی کھلانے کا موقع ملے تو کیا میدان میں واپس آ جائیں گے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اب میری عمر وفا نہیں کر سکتی اور نہ ہی میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے۔ پھر بھی میری خواہش ہے کہ میں مانگا میں ہاکی کھلاؤں اور ان بنیادوں پر کھلاؤں کہ ہر بچے کے لئے تعلیم حاصل کرنا ضروری ہو، سب بچے خواہ وہ غریب کی اولاد ہوں یا امیر کی برابر ہوں وہاں کسی کی چودھراہٹ نہ ہو کوئی اپنی ذات کے لئے ہاکی نہ کھیلے اور نہ ہی کوئی سیاست چمکانے کیلئے کھیلے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ہاکی کھیلا کر عبادت کی ہے لیکن بعض اوقات اچھے کام کے بھی برے نتائج نکل سکتے ہیں جیسے ضیاء دور میں لاہور سے فحاشی کے خاتمے کےلئے اقدامات کئے گئے تاکہ لاہور سے فحش لوگوں کا خاتمہ ہو سکے لیکن یہ لوگ ایک مخصوص جگہ سے نکل کر پورے لاہور میں پھیل گئے۔ ضیاء کے اخلاص پر شک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے اقدام کو برا کہا جا سکتا ہے اسی طرح ہم نے بھی ہاکی کو اچھی نیت سے کھیلایا لیکن اچھا نہیں ہو رہا تھا کیونکہ ہم نے اپنی پوری توجہ ہاکی پر دی جبکہ ہمیں لڑکوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہئے تھی۔ تعلیم کو ہاکی پر تھوڑی برتری ہونی چاہئے کیونکہ اچھی ہاکی کھیلنے کے بعد کھیلاڑی بےکار ہو جاتا ہے لیکن اچھی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انسان دوسروں کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے۔
ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی کامیابی پر کیا کہیں گے۔ کیا ہم اس جیت کو پاکستان کے عروج کی واپسی کی جانب پہلا قدم کہہ سکتے ہیں؟
پاکستان کی یہ جیت ہاکی کے مستقبل کے لئے سودمند ثابت ہوگی اور پاکستان میں ہاکی کی ترقی میں نمایاں کردار اداکرے گی۔ ٹیم میں تجربہ کار کھیلاڑیوں کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے جس کی بدولت پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔ اگر سارے لڑکے اسی طرح اتفاق و اتحاد سے کھیلیں اور کھیلانے والے بھی مخلص ہوں تو کھیل میں کوئی بھی مقام پانا پاکستان کےلئے ناممکن نہیں ہے لیکن۔حسن سردار کا دور لوٹ آنا مشکل ہے۔
پاکستان کی یہ جیت ہاکی کے مستقبل کے لئے سودمند ثابت ہوگی اور پاکستان میں ہاکی کی ترقی میں نمایاں کردار اداکرے گی۔ ٹیم میں تجربہ کار کھیلاڑیوں کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند ہوئے جس کی بدولت پاکستان کو فتح نصیب ہوئی۔ اگر سارے لڑکے اسی طرح اتفاق و اتحاد سے کھیلیں اور کھیلانے والے بھی مخلص ہوں تو کھیل میں کوئی بھی مقام پانا پاکستان کےلئے ناممکن نہیں ہے لیکن۔حسن سردار کا دور لوٹ آنا مشکل ہے۔
کیا آپ کو اس جییت کی توقع تھی؟بالکل نہیں، ایشین گیمز میں پاکستان کی جیت غیرمتوقع تھی۔
قومی کھیل ہونے کے باوجود ہاکی لوگوں کی توجہ کیوں حاصل کرنے میں ناکام ہے؟
آسٹرو ٹرف نے ہاکی میں گول کی خوبصورتی ختم کر دی ہے۔ حسن سردار اور منظور جونئیر کے گول دیکھنے کا آج بھی اپنا ہی لطف ہے۔ وہ ہاف لائن سے گیند لے کر بھاگتے تھے اور مخالف کھیلاڑیوں کو ساتھ بھگا تے ہوئے گول کر کے آتے تھے۔ آج صرف ون ٹچ ہاکی رہ گئی ہے جسکی اپنی جگہ خوبصورتی ہے لیکن پہلے والی ہاکی زیادہ خوبصورت تھی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی دلچسپی اس کھیل میں کم ہوگئی ہے۔
آسٹرو ٹرف نے ہاکی میں گول کی خوبصورتی ختم کر دی ہے۔ حسن سردار اور منظور جونئیر کے گول دیکھنے کا آج بھی اپنا ہی لطف ہے۔ وہ ہاف لائن سے گیند لے کر بھاگتے تھے اور مخالف کھیلاڑیوں کو ساتھ بھگا تے ہوئے گول کر کے آتے تھے۔ آج صرف ون ٹچ ہاکی رہ گئی ہے جسکی اپنی جگہ خوبصورتی ہے لیکن پہلے والی ہاکی زیادہ خوبصورت تھی یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی دلچسپی اس کھیل میں کم ہوگئی ہے۔
کیا پاکستان میں ہاکی کے کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ ہے؟قومی کھیل ہونے کے باوجود کھیلاڑیوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ١٩٨٢ کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کے کھیلاڑیوں کو اسلام آباد میں پلاٹ دینے کا وعدہ آج تک وفا نہ ہوسکا۔ اولمپییئن بھی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کوئی انکا حال پوچھنے والا نہیں۔
سبز قمیض پہننا کسی بھی کھیلاڑی کے لئے اعزاز کی بات ہے لیکن کیا کھیلاڑی اپنی تمام عمر اس اعزاز کے سہارے گزار سکتا ہے کیا یہ اعزاز کھیلاڑی کی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے یقییناّّ نہیں کر سکتا اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے، بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے، بوڑھے ماں باپ کی دوا کیلئے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو ہاکی فیڈریشن اسے اس وقت تک دے گی جب تک وہ جوان ہے دوسرے ادارے بھی عارضی ملازمت مہیاکرکے انکی جوانی کو استعمال کرتے ہیں اوربوڑھے ہونے پر نکال دیتے ہیں تب ان کھیلاڑیوں کا کوئی مستقبل نہیں رہتا اس وقت صرف تعلیم ہی ان کے کام آسکتی ہے۔ آج میں تعلیم کو اسی لئے ہاکی پر برتری دیتا ہوں تاکہ اگر کوئی بچہ اعلی سطح کی ہاکی کھیلنے سے محروم رہے تو اسکا مستقبل تباہ نہ ہو۔ اگر وقت اور حالات نے اجازت دی تو اپنی انہی خواہشات کے مطابق ہاکی کھیلاؤں گا۔
سبز قمیض پہننا کسی بھی کھیلاڑی کے لئے اعزاز کی بات ہے لیکن کیا کھیلاڑی اپنی تمام عمر اس اعزاز کے سہارے گزار سکتا ہے کیا یہ اعزاز کھیلاڑی کی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے یقییناّّ نہیں کر سکتا اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے، بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے، بوڑھے ماں باپ کی دوا کیلئے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو ہاکی فیڈریشن اسے اس وقت تک دے گی جب تک وہ جوان ہے دوسرے ادارے بھی عارضی ملازمت مہیاکرکے انکی جوانی کو استعمال کرتے ہیں اوربوڑھے ہونے پر نکال دیتے ہیں تب ان کھیلاڑیوں کا کوئی مستقبل نہیں رہتا اس وقت صرف تعلیم ہی ان کے کام آسکتی ہے۔ آج میں تعلیم کو اسی لئے ہاکی پر برتری دیتا ہوں تاکہ اگر کوئی بچہ اعلی سطح کی ہاکی کھیلنے سے محروم رہے تو اسکا مستقبل تباہ نہ ہو۔ اگر وقت اور حالات نے اجازت دی تو اپنی انہی خواہشات کے مطابق ہاکی کھیلاؤں گا۔
اپنے ہاکی کے دوستوں اور انکی عادات کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گے؟
ہاکی کے ٢٥ سالہ دور میں ہر مزاج کا دوست ملا۔ ان سب میں جیکی کا کردار سب دلچسپ تھا۔ ٹیم کھیلانے کے معاملے میں بڑے جذباتی تھے۔ ویسے بڑے جولی آدمی تھے ہر وقت خوش رہتے اور دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔ ان ہی کی طرف سے زیادہ شغل ہوا کرتے تھے۔ میچ میں دھکم پیل اور ایک دوسرے کو ہاکی مار دینا اکثر ہوتا رہتا تھا۔ جیکی کو ڈانس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ہر جگہ اور ہر کسی کے سامنے ناچ سکتا تھا ایک دفعہ وہ بابا محمد حسین کے عرس ( مانگا ) میں ناچنے والوں کے ساتھ سٹیج پر چڑھ گیا اور خوب شغل کیا۔
ہاکی کے ٢٥ سالہ دور میں ہر مزاج کا دوست ملا۔ ان سب میں جیکی کا کردار سب دلچسپ تھا۔ ٹیم کھیلانے کے معاملے میں بڑے جذباتی تھے۔ ویسے بڑے جولی آدمی تھے ہر وقت خوش رہتے اور دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔ ان ہی کی طرف سے زیادہ شغل ہوا کرتے تھے۔ میچ میں دھکم پیل اور ایک دوسرے کو ہاکی مار دینا اکثر ہوتا رہتا تھا۔ جیکی کو ڈانس کرنے کا بڑا شوق تھا وہ ہر جگہ اور ہر کسی کے سامنے ناچ سکتا تھا ایک دفعہ وہ بابا محمد حسین کے عرس ( مانگا ) میں ناچنے والوں کے ساتھ سٹیج پر چڑھ گیا اور خوب شغل کیا۔




0 comments:
Post a Comment