امریکہ میں اس شخص نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے جس پر سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کو دو کروڑ ستّر لاکھ سے زائد ’سپیم‘ پیغامات بھیجنے کا الزام ہے۔
والس کو دس برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے
’سپیم کنگ‘ کی عرفیت سے مشہور سینفورڈ والس نے کیلیفورنیا میں خود کو ایف بی آئی کے ایجنٹس کے حوالے کیا تاہم بعد ازاں انہیں ایک لاکھ ڈالر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ سینفورڈ نے ایک ایسا کمپیوٹر پروگرام بنایا تھا جس نے فیس بک کے سپیم فلٹرز کو ناکارہ بناتے ہوئے صارفین کو رجھایا کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی تفصیلات اسے بھیجیں۔
سینفورڈ والس نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور اگر ان پر یہ الزام ثابت ہوگیا تو انہیں دس برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
وکلائے استغاثہ کے مطابق والس کا پروگرام فیس بک صارفین کے دوستوں کی جانب سے انہیں ایک ویب سائٹ پر جانے کا پیغام بھیجتا تھا جہاں ان کے اکاؤئنٹس کی معلومات حاصل کر لی جاتی تھیں۔ اس ویب سائٹ سے صارفین کو ایک اور ویب سائٹ پر بھیج دیا جاتا تھا جہاں سے والس کو ’قابلِ ذکر آمدن‘ ہوتی تھی۔
استغاثہ کے مطابق والس نے نومبر 2008 سے مارچ 2009 کے دوران پانچ لاکھ فیس بک صارفین کی معلومات لیں اور دو کروڑ ستّر لاکھ سے زائد ’سپیم‘ پیغامات بھیجے۔
لاس ویگاس سے تعلق رکھنے والے سینفورڈ والس پر ای میل فراڈ، ایک محفوظ کمپیوٹر کو دانستہ نقصان پہنچانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
فیس بک نے والس کے خلاف 2009 میں مقدمہ کیا تھا اور جج نے سینفورڈ والس کو حکم دیا تھا کہ وہ فیس بک سے دور رہے تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ والس نے رواں سال کے آغاز میں بارہا اس حکم کی خلاف ورزی کی۔


0 comments:
Post a Comment